بہت احتیاط کیجۓ ۔ ۔ ۔ ۔ !!!!!

آجکل لوگ آیات قرآنی کا ترجمہ یا احادیث نبویہ یا صحابۂ کرام ، اولیاۓ کرام ، مشائخ عظام کے اقوال بہت روانی سے بغیر کسی ثبوت اور حوالہ کے لکھتے اورشئیر کرتے جارہے  ھیں ، جوکہ بہت خطرناک معاملہہے  ، اسلۓ کہ اگر آپ نے ایک آیت کا ترجمہ اپنی سوچکے مطابق لکھ دیا اور وہ غلط تھا تو سمجھ جائیے کہ آپ نے قرآن کے ترجمہ میں تحریف کی ہے  ، جوکہ ایک کبیرہ گناہ ہے  ،

مشہور اردو تفسیر معارف القرآن کے مؤلف ، مفتئ اعظم پاکستان ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں آیات کا ترجمہ خود نہیں کیا بلکہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا تفسیر بیان القرآن میں کیا ہو ا ترجمہ بعینہ نقل کردیا ، اب سمجھ لیں کہ مفتئ اعظم پاکستان تو اتنا احتیاط کریں اور ھم کیسے بے دھڑک ترجمہ کرتے ہیں جاتے ؟ اگر کسی جگہ کسی آیت کو لکھ کر اس کا ترجمہ کرنا ضروری ہو  تو مفتئ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی طرح کسی مستند تفسیر سے دیکھ کر ترجمہ نقل کردیں اور اس تفسیر کانام اور اس کا صفحہ نمبر آخر میں ضرور لکھ دیں ، اپنی طرف سے کوئ وضاحت لکھنی ہو  تو برائیکٹ ( ) کے اندر لکھیں ، تاکہ واضح طور پر سمجھ آجاۓ کہ برائیکٹ والی بات آپ نے خود کی ہے  . اور حدیث کو بغیر ثبوت اور حوالہ کے نقل کر دینے اور بلا تحقیق شئیر کرنے کا ” رواج ” اور ” شوق ” تو اتنا پھیل گیا کہ اللہ پناہ میں رکہے  بس ! .. 

اور یہی حال صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے  اقوال ، اولیاۓ کرام اور مشائخ عظام رح کے اقوال بیان کرنے کا ہے  ، لوگ بے دھڑک اور بلاجھجک لکھتے اور شئیر کرتے جاتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔ ۔

 ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا “…           یا          حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے  کہ ” …

 

اور نہ لکھنے والے کو کتاب کا نام اور صفحہ نمبر لکھنے کی ضرورت محسوس ہو تی ہے  ، نہ ہی شئیر کرنے والا تحقیق کی ضرورت محسوس کرتا ہے  اور رہے  کمنٹ دینے والے حضرات ، تو وہ خیر سے “بیشک ” اور ” سبحان اللہ ” لکھ لکھ کر ان کی خوب حوصلہ افزائ کرتے جاتے ہیں . اس بات کی طرف توجہ کسی کی بھی نہیں جاتی کہ جتنا ثبوت کے ساتھ حدیث کو لکھ کر شئیر کرنا ثواب ہے  ، اس سے کہیں زیادہ گناہ بلاتحقیق و ثبوت کے کوئ بات حدیث بتا کر پیش کرنا اور لکھ کر شئیر کرنا ہے  ، اور ساتھ ساتھ اگر واقعی وہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یا حضرت علی رضی اللہ عنہ یا دیگر حضرات صحابہ یا مشائخ و اولیاء کا فرمان نہیں ہے  تو یہ لکھنے والے نے ان پر بہتان لگایا اور اس کو شئیر کرنے والا اور اس پر حوصلہ افزائ والے کمنٹ دینے والا بھی بہتان لگانے میں برابر کا شریک گناہ ، اور مجرم ہے  .

میرے استاد محترم ، شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمدتقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم فرمایا کرتے ہیں کہ ان کو ان کے والد ماجد مفتئ اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے نصیحت فرمائ تھی کہ :

اپنے قلم یا اپنی زبان سے وہ بات کرو جس کو اگر کبھی دنیا کی عدالت یا اللہ کی عدالت میں سچ ثابت کرنا پڑجاۓ تو واقعی سچ ثابت کرسکو ، ایسا کام کبھی نہ کرو جس کو سچ ثابت نہ کرسکو اور دنیا یا آخرت میں رسوا ہو جاؤ ! .. “

غور فرمائیے ! …

آپ فیس بک پر جتنی تحریریں لکھ چکے ،

یا

کسی کی لکھی ہو ئ تحریروں کو شیئر کر چکے ،

یا

جن چیزوں کو آپ لائیک کرکے یا اچہے  کمنٹ دے کر ان کی تائید کر چک چکے ہیں ،

 

کیا آپ کو ان کو دنیا یا آخرت کی عدالت میں سچ ثابت کرسکیں گے …؟

اگر آپ کا جواب ہے  ” ہاں ” میں تو مبارک ہو  ، ورنہ  ۔ ۔ ۔

خدارا … احتیاط کیجۓ ! …

فقط والسلام :

مفتی ابولائبہ عفان غفرلہ ،