عشق کی نماز جنازہ

نہ وہ سوز ہے نہ وہ ساز ہے یہ عجب فریبِ نیاز ہےسرِ نازِ حُسن بھی خم ہوا نہ اب عشق وقفِ نیاز ہےگیا حُسن یوں بُتِ ناز کا کہ نشاں بھی باقی نہیں رہاپڑھو دوستو میرے عشق پر کہ جنازہ کی یہ نماز ہے۔(حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم )