گل و گلزار کی باتیں، لب و رخسار کے قصے

بہت فرسودہ لگتے ہیں مجھے اب پیار کے قصے

گل و گلزار کی باتیں، لب و رخسار کے قصے

یہاں سب کے مقدر میں فقط زخم جدائی ہے

سبھی جھوٹے فسانے ہیں وصال یار کے قصے

بھلا عشق و محبت سے کسی کا پہٹ بھرتا ہے

سنو، تم کو سناتا ہوں میں کاروبار کے قصے

میرے احباب کہتے ہیں یہی ایک عیب ہے مجھ میں

سر دیوار لکھتا ہوں، پس دیوار کے قصے

میں اکثر اس لئے لوگوں سے نہیں ملتا

وہی بیکار کی باتیں، وہی بیکار کے قصے

10 thoughts on “گل و گلزار کی باتیں، لب و رخسار کے قصے

Comments are closed.